اشکوں کے چراغ — Page 607
607 اے شورِ طلب اے آخر شب اے دیدہ نم اے ابرِ کرم خاموش کہ کچھ کہنا ہے گناہ ہشیار کہ چپ رہنا ہے ستم اے حسن مہک ، اے عشق بہک، اے شدت غم کے جام چھلک اے چشم تحیر گل کو نہ تک، بیدار نہ ہو جائے شبنم رستے کی تھکن سے چور بدن مجبور وطن سے دور بدن تو چاہے تو تم اے تیز قدم جو نہ چاہے تو چل تیار ہیں ہم گو برق تبسم کوند چکی پر طور تحیر قائم ہے اے حسن! گرا چلمن کو ذرا کہیں دیکھ نہ لے کوئی نامحرم گلشن میں ہے اک کہرام مچا، موسم بھی ہے سہا سہا سا دامن کو بچا اے بادِ صبا، کانٹے ہیں خفا اور گل برہم اے شمع ازل چل دیدہ و دل کی محفل میں پھر رقص کریں پروانے جنوں سے بے گانے ، یونہی بھول گئے سُر ، تال، قدم مے خانہ ترا آباد رہے، آزاد رہے، دلشاد دو گھونٹ پلا دے منظر کو، تجھے تیرے ہی جو دو عطا کی قسم پلادے منظر نجود (1947)