اشکوں کے چراغ — Page 549
549 یاد کی ہے ہے اور پی سی ہے چشم ساقی جھکی جھکی سی ہے پایا پا لیا کچھ تم کو پا کر بھی کچھ کمی سی ہے ہم بھی احباب سے نہیں ہیں خوش ان کو بھی ہم سے دشمنی سی ہے کہہ دیا کیا صبا نے پھولوں سے رُخ پہ گلھیں کے برہمی سی ہے یاد آئی ہے کوئی بزم طرب پھول کی آنکھ شبنمی سی ہے اُٹھیں، ٹکرائیں، جھک گئیں نظریں اک خطا جیسے باہمی سی ہے کے سائے میں سو گئی شبنم نیند کی گود ریشمی سی ہے رات رویا نہ ہو کہیں مضطر ریگ صحرا میں کچھ نمی سی ہے (۱۹۴۰ء)