اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 540 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 540

540 ور گیلے پر جسم زخمی ہے اور کون بیٹھا ہے غم کے ٹیلے پر یہ پرندہ کہاں سے آیا ہے اس قدر کیوں ہیں اس کے پہلے پر ہر کسی کو نظر نہیں آتے طائر صبح کے سجیلے پر مرغ آواز اُڑ گیا آخر پھینک کر اپنے نیلے پیلے پر جس نے اپنا لیا ہے ماں بن کر ناز ہے مجھ کو اس قبیلے پر گھر کے برسی ہے تیرے غم کی گھٹا تن کے جلتے ہوئے فتیلے پر بے سہاروں کو بے وسیلوں کو ہے بھروسہ ترے وسیلے پر رکنے پائے نہ یہ اُڑان کبھی ٹوٹ جائیں تو اور سی لے پر شہر آباد ہو گیا مضطر ! ایک صدیوں پرانے ٹیلے پر