اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 474 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 474

474 ہم نوکِ سناں پر بھی رہے زندہ سلامت کچھ اس کے سوا جینے کی صورت تو نہیں تھی سولی بصد ناز ترا نام لیا تھا واللہ ! ہمیں فخر کی عادت تو نہیں تھی ہم لوگ سردار بھی جی بھر کے ہنسے تھے ہر چند کہ ہنسنے کی اجازت تو نہیں تھی کیا جانیے کس طرح اسے دیکھ لیا تھا اس حسن کی کچھ حد و نہایت تو نہیں تھی رو رو کے گزارا تھا تجھے اے شب ہجراں! شکوہ تو نہیں تھا یہ شکایت تو نہیں تھی ہم خاک بسر عہد اذیت کے امیں تھے سوچو تو اذیت بھی اذیت تو نہیں تھی ہم نے جو تہ دل سے تمھیں دی تھی معافی احساں تو نہیں تھا وہ عنایت تو نہیں تھی منظر کی عیادت کے لیے آئے تھے احباب ہر چند عیادت کی اجازت تو نہیں تھی