اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 5 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 5

LO 5 جاگ اے شرمسار! آدھی رات اپنی بگڑی سنوار آدھی رات یہ گھڑی پھر نہ ہاتھ آئے گی باخبر ، ہوشیار! آدھی رات وہ جو بستا ہے ذرے ذرے میں کبھی اس کو پکار آدھی رات اس کے دربار عام میں جا بیٹھ سب لبادے اتار آدھی رات دو گھڑی عرض مدعا کر لے وقت ہے سازگار آدھی رات باب رحمت کو کھٹکھٹانے دے میرے پروردگار! آدھی رات شدت غم میں کچھ کمی کر دے اب تو اے غمگسار! آدھی رات۔۔۔آدھی کو پنجابی لفظ ادھی کے معنوں میں سمجھا جائے۔