اشکوں کے چراغ — Page 439
439 راه پکارے گی، چورستہ بولے گا رسته زنده تو رستہ بولے گا ہے وصل میں گھل جائے گی ہجر کی لذت بھی روٹھنے والا ہنستا ہنستا بولے گا منزل آپ پکارے گی رہ چلتوں کو رستوں کے اندر اک رستہ بولے گا جھوٹا بول رہا تھا اتنے عرصے سے سچا بھی اب جستہ جستہ بولے گا اُٹھ جائیں گے پردے اصل حقیقت سے صدیوں کا راز سربستہ بولے گا دل کی دتی کے کھنڈرات پکاریں گے سایه دیوار شکستہ بولے گا نسخہ بن کر پس جاؤ گے نادانو ! جب تقدیر کا ہاون دستہ بولے گا سورج چاند گواہی دیں گے بالآخر وقت آنے پر عہدِ گزشتہ بولے گا مضطر ! سینہ بھر جائے گا خوشبو سے گل موسم میں خود گلدستہ بولے گا