اشکوں کے چراغ — Page 438
438 کے شعور سخن ہے، کسے مجال نظر حضور یار فقط نامہ بر ہی جائے گا اگر وہ آئے تو ہمراہ لائے ہوش و حواس وگرنہ قرب کی لذت سے مر ہی جائے گا لرز رہا ہے ستارہ جو سرحدِ جاں پر اُجاڑ آنکھ کو آباد کر ہی جائے گا اسے کہو کہ وہ پھرتا رہے خلاؤں میں اگر زمین پہ اترا تو ڈر ہی جائے گا اگر گیا بھی تو جائے گا منقسم ہو کر انا کے دوش پہ کھل کر بکھر ہی جائے گا ہزار آئنے دیکھو، گواہ ٹھہراؤ مکرنے والا تو مضطر! مکر ہی جائے گا