اشکوں کے چراغ — Page 430
430 ستانوں سے کہہ دو یہ گھر میرا ہے دل دیواریں میری ہیں، در میرا ہے میں خود ہی مدفون ہوں گھر کے آنگن میں نیزے پر جو رکھتا ہے سر میرا ہے میں ہی صف بستہ ہوں سوچ سمندر میں ساحل پر بھی پیاس کا لشکر میرا ہے پر کانٹے ہی کانٹے ہیں دشت ملامت میں ان کانٹوں کے اوپر بستر میرا ہے جس کی ضرب سے اندھیارے مسمار ہوئے وہ آنسو، وہ آنکھ کا پتھر میرا ہے میرے نام پہ قدغن ہے اخباروں میں اور خبروں میں ذکر بھی اکثر میرا ہے میں ہی جاگ رہا ہوں عہدِ اذیت میں حد نظر تک سارا منظر میرا ہے اونچے محل منارے چکنا چور ہوئے صحیح سلامت اب بھی چھپر میرا ہے بگڑی بات بنی، جب میرے آقا نے ہولے سے فرمایا: مضطر میرا ہے