اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 410 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 410

410 تو کہیں چاند ، کہیں پھول، کہیں شبنم ہے حسن آوارہ! ترا کوئی تو گھر بھی ہو گا سر دار کبھی اس کو بلاؤ تو سہی خود چلا آئے گا وہ شوخ جدھر بھی ہو گا ہے ابھی وقت کوئی اس کا مداوا کر لے اب کے سیلاب کی زد میں ترا گھر بھی ہوگا دشت در دشت گئی رُت کا منادی مضطر ! دشت میں آیا تو اب دشت بدر بھی ہوگا