اشکوں کے چراغ — Page 348
348 وہ چاہتا تھا تری عاقبت سنور جائے کسی سے کہتا نہیں تھا، غیور اتنا تھا ہر ایک چھوٹے بڑے کو اسی سے تھا شکوہ وہ بے قصور تھا، اس کا قصور اتنا تھا وہ ملنے آیا تو میں اُٹھ کے مل سکا نہ اسے سے میرا بدن چور چور اتنا تھا تھکن میں ایک لمس سے ہوش و حواس کھو بیٹھا میں جس کو ضبط پر اپنے غرور اتنا تھا گزر چکا تھا میں گفت وشنید کی حد سے نگاہ لطف کا مضطر! سرور اتنا تھا