اشکوں کے چراغ — Page 346
346 میں تاج کا نٹوں کا خود اپنے سر پہ رکھ لیتا مرے حریف مرا انتظار کر لیتے نظر نہ آتے بگولے کبھی سر صحرا ہوا کے رخ کو اگر اختیار کر لیتے میں ایک ذرہ خاکی تھا اور مرے سورج قریب تھا کہ مجھے ہمکنار کر لیتے خدا گواہ، نہ تھے اس کے اہل ہم مضطر ! یہ اور بات ہے وہ ہم سے پیار کر لیتے