اشکوں کے چراغ — Page 333
333 تیر جب اس کمان سے نکلا ایک شعلہ چٹان سے نکلا اپنی آواز لے گیا ہمراہ جب پرندہ مکان سے نکلا کوئی اپنا رہا نہ بے گانہ فاصلہ درمیان سے نکلا راستہ دے دیا سمندر نے اشک اس آن بان سے نکلا مٹ چکا تھا نشان جنگل کا جب شکاری مچان سے نکلا شہر مسحور میں سرِ منبر مولوی مرتبان سے نکلا اب زمیں سے لپٹتا پھرتا ہے سایہ کیوں سائبان سے نکلا بات دل کی زباں پہ آ نہ سکی کام کب ترجمان سے نکلا بے سبب تو خفا نہیں دُنیا کچھ تو میری زبان سے نکلا خواب ہے یا خیال ہے مضطر! آن کر پھر نہ دھیان سے نکلا