اشکوں کے چراغ — Page 323
323 بے سبب اور بے صدا ٹوٹا اشک اندر سے سے بارہا ٹوٹا حشر آواز کا ہوا برپا قفل جب بھی سکوت کا ٹوٹا عکس سے عکس کی صداقت تک آئنوں کا نہ سلسلہ ٹوٹا دیکھ کر بھی نہ اس کو دیکھ سکے آنکھ کا جو بھرم بھی تھا ، ٹوٹا اور جتنے تھے آسرے ٹوٹے ایک تیرا نہ آسرا ٹوٹا سخت تھا زندگی کا پھیر بہت مشکلوں دائرہ ٹوٹا تاب کب لا سکا صداقت کی فرط لذت سے آئنہ ٹوٹا