اشکوں کے چراغ — Page 291
291 سوچتا ہوں کہ کوئی تجھ سے بڑا کیا ہوگا تو اگر تو ہے تو پھر تیرا خدا کیا ہو گا میں غلاموں کے غلاموں کا اک ادنیٰ خادم مجھ سا قسمت کا دھنی کوئی بھلا کیا ہو گا تجھ کو اللہ نے لولاک کی خلعت بخشی مستحق اس کا کوئی تیرے سوا کیا ہو گا میم کے پردے میں مستور ہے تیرا مسکن لکھوں تو بتا تیرا پتا کیا ہو گا نامه جب دَنی کا فَتَدَلّی سے ہوا ہو گا ملاپ فرق قوسین کے مابین رہا کیا ہو گا جب ملاقات ہوئی ہو گی سرِ عرشِ بریں دوست نے دوست سے کیا جانے کہا کیا ہوگا جس نے مظلوم کی تقدیر بدل کر رکھ دی زلزلہ ہو گا ، ترا اشک گرا کیا ہو گا