اشکوں کے چراغ — Page 289
289 شعور غم طبق اندر طبق ہے اسی غم سے زمیں کا سینہ شق ہے یہ تیری دین ہے اے غم کے خالق! دلوں میں روشنی کی جو رمق ہے سنایا ہے جسے سولی پر چڑھ کر کتاب عشق کا پہلا ورق ہے عطا کر دے مجھے بھی خلعت اگر چہ کوئی دعوی ہے نہ حق ہے کوئی آیا نہ ہو دارالاماں میں یہ کیا غوغائے شَرِّ ما خَلَقُ ہے نہ اب زیتون کو خطرہ خزاں کا نہ اب رنگ رخ انجیر فق ہے یہی تو ہے مقامِ قَابَ قَوْسَيْن ادھر تو ہے، اُدھر رپ فلک ہے