اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 282 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 282

282 وہی تو ہے جو الوہیت کی صفات کا مظہر اتم ہے لکھوں تو اس کو نقاب اندر نقاب اندر نقاب لکھوں تمام سچائیوں کا حامل، وہی ہے کامل، وہی ہے ہے اکمل اسی کو لوح و قلم، اسی کو کتاب اندر کتاب لکھوں جو حرف اب بھی اُتر رہے ہیں، جواب بھی الفاظ بولتے ہیں اسی کا حسنِ بیان ، حسنِ کلام، حسنِ خطاب لکھوں وہی ہے نیت ، وہی ارادہ ؛ وہی ہے منزل، وہی ہے جادہ وہ راہبر ہو اگر سفر میں تو ہر سفر کامیاب لکھوں دل و نظر اشک اشک دھوؤں تو اس پر بھیجوں درود مضطر ! سجاؤں پلکوں کو آنسوؤں سے تو نعت کو آب آب لکھوں