اشکوں کے چراغ — Page 272
272 Jako کس لیے سائے سے ڈرتے ہو میاں! کیوں نہیں کہتے جو کرتے ہو میاں! کوئی تم کو دیکھنے والا نہیں کس لیے بنے سنورتے ہو میاں! تم نے دل کی بات کیوں مانی نہ تھی اب نہ جیتے ہو، نہ مرتے ہو میاں! اس سے کچھ عزت نہیں بڑھ جائے گی چوٹ کھا کر کیوں مکرتے ہو میاں! بے ہنر ، خوددار، دیوانه ، حقیر کس لیے مضطر پہ مرتے ہو میاں!