اشکوں کے چراغ — Page 267
267 رستے پوچھتے ہیں کارواں سے کدھر جاتے ہو، آئے ہو کہاں سے بچھڑنے والو! یہ سوچا تو ہوتا کہاں جاؤ گے کٹ کر کارواں سے طلوع صبح سے ہے تجھ کو نسبت شام غم! لاؤں کہاں سے تجھے وہیں پر روشنی ہو جائے آباد مرا سورج گزر جائے جہاں سے کہاں مضطر، کہاں وہ جانِ خوبی ہے نسبت خاک کو کیا آسماں سے