اشکوں کے چراغ — Page 225
225 تم نہ ٹالے سے بھی ملے صاحب ! کیوں مری آگ میں جلے صاحب! میں بُرا، تم ہو گر بھلے صاحب! میرے ہمراہ کیوں چلے صاحب! آپ کو کیا خبر کہ دھوپ ہے کیا آپ آئے ہیں دن ڈھلے صاحب! چھین کر چین ہم فقیروں کا اب اکیلے کہاں چلے صاحب! تم کو پروا نہیں ہے اپنی بھی تم بھی ہو ایک منچلے صاحب! تم بھی تھے جل رہے ہمارے ساتھ ہم اکیلے نہیں جلے صاحب! دار سے یار تک پہنچنے کے اور کتنے ہیں مرحلے صاحب! مسئلہ تھا تو جب بھی دل کا تھا اب بھی دل کے ہیں مسئلے صاحب!