اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 162 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 162

162 کہتی ہیں یہ منتظر نگاہیں اُتریں گی زمین پر پناہیں حالات سے کس طرح نباہیں جینا بھی اگر نہ لوگ چاہیں منظر کی نہ تاب لا سکیں گی بھولے سے اگر ملیں نگاہیں سینے ہیں مزار خواہشوں کے چہرے ہیں ہوس کی خانقاہیں خیموں میں ہیں بے وطن مسافر خیموں کی کٹی ہوئی ہیں بانہیں شاید انھیں مل گئے کھلونے بچوں کی بدل گئیں نگاہیں آئے گا جواب آسماں سے بولیں گی ضرور سجدہ گاہیں اچھی بھی ہے عقل اور بُری بھی اتنا بھی نہ عقل کو سراہیں چھوڑیں بھی ہمیں ، ہمارا کیا ہے اللہ سے اپنی خیر چاہیں ہم سا بھی نہ ہو گا کوئی ناداں تجھ سے بھی اگر نہ ہم نبا ہیں چتوں پہ لکھی ہوئی ہیں مضطر! پت جھڑ کی تمام اصطلاحیں