اشکوں کے چراغ — Page 148
148 پتھر آئینے سے اُلجھ کر سورج تھا بچپن کا ساتھی دل ہی دل میں پچھتایا تھا چاند پرانا ہمسایہ تھا شہروں میں تھیں ننگی سڑکیں بن میں سایہ ہی سایہ تھا شجر ممنوعہ سے مل کر میرا بھی جی للچایا تھا میں تو شاید گم ہو جاتا تو تھا جو آڑے آیا تھا اک لمحہ لمحوں سے کٹ کر مضطر ނ ملنے آیا تھا (اگست، ۱۹۸۸ء)