اشکوں کے چراغ — Page 130
130 اس کے آنے کی خبر سنتے ہی بچے بوڑھے اپنی پلکوں پہ لیے دل کا تقاضا نکلے آبلے پاؤں کے واقف تھے پرانے لیکن روح کے روگ بھی کانٹوں کے شناسا نکلے تو کبھی پی تو سہی اشک ندامت چھپ کر عین ممکن ہے کہ یہ زہر گوارا نکلے تم بھی آ جانا ملاقات کی خاطر مضطر! سر دار مقدر کا ستارہ نکلے