اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 108 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 108

108 کیا بتاؤں تم کو اس کا مرتبہ، اس کا کمال ایک ہی دل میں لگن ہے، ایک ہی دل میں خیال گالیاں بھی دو اگر مجھ کو، نہیں اس کا ملال گرچه منسوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال چوں دلِ احمد نمی بینم دگر عرش عظیم ، تونے یارب! دی مجھے اس کی غلامی کی سند وہ غلامی جس کی لذت کی نہایت ہے نہ حد مان لے یہ التجا بھی، الغياث و المدد! در ره عشق محمدؐ این سر و جانم ایں تمنا، ایں دُعا، این در دلم عزم صمیم رود عشق کی منزل کٹھن ہے، راستہ ہے صعب ناک مجھ کو ڈر ہے تم نہ ہو جاؤ کہیں رہ میں بلاک آؤ کرلو مجھ سے مل کر اس سفر میں اشتراک از عنایات خدا وز فضل آں دادار پاک دشمن فرعونیانم بهر عشق آں کلیم گرچہ ہوں میں بس ضعیف و ناتوان و دل فگار ہیں درندے ہر طرف، میں عافیت کا ہوں حصار میں ہوں وہ نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار منت ایزد را که من بر رغم اہل روزگار صد بلارا می خرم از ذوقِ آں عین النعيم 66