اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 48 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 48

48 آیا تھا پہاڑ سے اتر کر صحرا میں جو پھول جل رہا تھا اس کو بھی وہ لے گیا ٹچرا کر دھرتی پہ یہی کنول رہا تھا اوپر سے وہ ہو رہا تھا ناراض اندر سے مگر پگھل رہا تھا اس درد سے دے رہا تھا دستک دروازوں کے دل بدل رہا تھا اک آگ لگی ہوئی تھی دل میں کب سے یہ مکان جل رہا تھا مضطر کو وہ یاد کیسے رہتا خطرہ بھی تو صاف ٹل رہا تھا