اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 41 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 41

41 color مجھ کو مرے روبرو نہ کرنا اتنا بے آبرو نہ کرنا پہچان نہیں سکو گے چہرے آئینوں کی آرزو نہ کرنا خواہش کے قفس میں رہنے والو! تزئین قفس کی خو نہ کرنا جس بات پہ عقل کا ہو اصرار اے دل! اسے ہو بہو نہ کرنا معلوم ہیں اس کو راز سارے دیوار سے گفتگو نہ کرنا آنسو ہوں اگر تمھیں میٹر پانی سے کبھی وضو نہ کرنا یوسف کی قمیض کا ہوں میں چاک للہ ! مجھے رفو نہ کرنا آنکھوں کا تو فرض ہے کہ دیکھیں آنکھوں کا گلہ کبھو نہ کرنا فرقت میں یہ حال ہو گیا ہے کرنا کبھی گفتگو نہ کرنا رو رو کے فراق والدہ میں دامن کو لہو لہو نہ کرنا میں اپنی تلاش کو چلا ہوں مضطر ! مری جستجو نہ کرنا