اشکوں کے چراغ — Page 619
619 یہ کیسا شور و غل برپا ہے امشب ہمارے گھر کے بام و در سے آگے محبت کے کھلے ہیں پھول ہر سو عجب موسم ہے چشمِ تر سے آگے ادب گاہ محبت میں کھڑے ہیں سبھی چھوٹے بڑے مضطر سے آگے
by Other Authors
619 یہ کیسا شور و غل برپا ہے امشب ہمارے گھر کے بام و در سے آگے محبت کے کھلے ہیں پھول ہر سو عجب موسم ہے چشمِ تر سے آگے ادب گاہ محبت میں کھڑے ہیں سبھی چھوٹے بڑے مضطر سے آگے