اشکوں کے چراغ — Page 612
612 ہم نے مانا بہت بڑے بھی ہو آئینوں سے کبھی لڑے بھی ہو؟ وت کا کر رہے ہو صاف انکار موت کے سامنے کھڑے بھی ہو! کبھی چھوٹوں میں ہو بہت چھوٹے اور بڑوں میں بہت بڑے بھی ہو! سچ بتاؤ کے چاہتے کیا ہو؟ چل رہے بھی ہو اور کھڑے بھی ہو! مجموعه عجب اضداد کا ہو یعنی چھوٹے بھی ہو بڑے بھی ہو! شامل حال ہو کبھی سب کے کبھی سب سب سے سے الگ کھڑے بھی ہو! خود ہی عاشق ہو اور خود معشوق خود ہی سولی یہ جا چڑھے بھی ہو چل رہے ہو ازل سے اپنی طرف اور ازل سے یہیں کھڑے بھی ہو سب سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہو کبھی لڑے بھی ہو؟ آئینے سینے سے