اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 602 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 602

602 بتاؤں کس طرح خلق خدا کو کہ تو اس عہد کا حصن حصیں ہے تری دہلیز ہے اور میں ہوں پیارے مرا جینا مرا مرنا، یہیں ہے عجب کیا وقت کی رفتار رک جائے مگر ایسا کبھی ہوتا نہیں مجھے خطرہ کرا ہے ہے تو اسی سے تکلف کا جو مار آستیں ہے مئی مجھ کو کھا جائے گی آخر کہ میں اس کا ہوں یہ میری نہیں ہے تو اس کے پاؤں کی ہے خاک مضطر بچھڑ کر جس سے دنیا ہے نہ دیں ہے