اشکوں کے چراغ — Page 533
533 نعرہ زن بزم میں جب تو ہوگا کس کو جذبات پر قابو ہو گا ہم چلے جائیں گے اُٹھ کر تنہا بھی فریاد کا پہلو ہو گا رات بھر سیر چراغاں ہو گی کہیں آنسو، کہیں جگنو ہو گا سب تھکے ماندے کریں گے آرام ڈور تک سایہ گیسو ہو گا زیست کی کوئی تو صورت ہو گی چین کا کوئی تو پہلو ہو گا کس کو حاصل ہے دوام اے قاتل! ہم نہیں ہوں گے تو کیا تو ہو گا قیں! تنہائی سے ڈرتا کیوں ہے دشت میں کوئی تو آہو ہو گا دم بخود جس سے ہے شہر مسحور وہ تری آنکھ کا جادو ہو گا جس نے گرتوں کو سنبھالا مضطر ! وہ مرے یار کا بازو ہو گا