اشکوں کے چراغ — Page 520
520 کب سے بیٹھے ہو بے یقینے سے موت بہتر ہے ایسے مہکنے لگے گھر مہکنے کوئی آیا نہ ہو مدینے سے وہ تو داتا ہے دے گا ہر صورت تم بھی مانگو کسی قرینے سے آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ جائیں گے آنسوؤں کے یہ آبگینے آنے والے! نہ اتنی دیر لگا منتظر ہوں کئی مہینے سے منتظر ہیں اسیر مدت سے آ بھی جا اب اُتر کے زینے سے غم میں یہ معجزہ بھی ہوا لوگ جی اُٹھے اشک پینے عهد زہے قسمت مری، نصیب مرے وہ مخاطب ہیں مجھ کمینے سے ہم فقیروں کو کر دیا زندہ اس نے مضطر! لگا کے سینے سے