اشکوں کے چراغ — Page 519
519 ہے حریم ہجر میں کیسا چراغ روشن جدھر اٹھائیں نظر داغ داغ روشن ہے یہ کون شعلہ قدم اس طرف سے گزرا ہے کہ منزلیں ہیں فروزاں، سراغ روشن ہے یہ کس کی یاد میں راتیں سیاہ پوش ہوئیں یہ کس کے فیض سے دن کا چراغ روشن ہے یہ کس کے حسن سے حصہ ملا ہے پھولوں کو یہ کس کے دم سے چمن داغ داغ روشن ہے یہ کس کی آتش رُخ کو شراب کہتے ہیں یہ کس کے نور سے دل کا ایاغ روشن ہے یہ کس کے ہجر میں روتی ہے رات بھر شبنم یہ کس کے وصل سے گل کا چراغ روشن ہے یہ کس نے نام لیا آفتاب کا مضطر! که روشنی سی ہے دل میں، دماغ روشن ہے