اشکوں کے چراغ — Page 501
501 سے اندیشہ ہے گر کر سنبھلنے کا آنسو اب نہیں باہر نکلنے کا اگر خطرہ تھا موسم کے بدلنے کا ارادہ کیوں کیا تھا ساتھ چلنے کا ذرا سی بات پر طوفاں کی نیت کو بہانہ مل گیا تھا رُخ بدلنے کا کھلونے پھینک دو باہر دریچے سے کہ یہ بچہ نہیں اب کے بہلنے کا ابھی تو جل رہی ہے آگ سینوں میں ابھی دیکھو گے منظر گھر کے جلنے کا تمھاری موت کا منظر ہے نادانو ! یہ نظارہ نہیں سورج کے ڈھلنے کا دھرے رہ جائیں گے سب عہد اور پیماں نہیں یہ حادثہ امسال ٹلنے کا