اشکوں کے چراغ — Page 500
500 چھیڑ کر ہم نے سلسلہ دل کا کر لیا خود ہی حادثہ دل کا دل کے چاروں طرف ہیں دیواریں کوئی رستہ نہیں رہا دل کا منتظر ہو گا آئنہ دل کا اپنا چہرہ بھی ساتھ لے جانا دیکھیے! جیت کس کی ہوتی ہے دل سے ہو گا مقابلہ دل کا دل کی مجبوریاں، معاذ اللہ ! اب نہ کرنا کبھی گلہ دل کا اس کا نعم البدل نہیں کوئی ہے تو دل ہے فقط صلہ دل کا عقل منزل کے دھیان میں گم تھی کٹ گیا رہ میں قافلہ دل کا پی لیا مسکرا کے اشکوں کو دیکھ کر ہم نے حوصلہ دل کا کچھ تو ہے درمیان میں حائل کچھ تو ہے دل سے فاصلہ دل کا در دل تک تو دل کا ساتھ رہا پھر نہ کوئی پتا چلا دل کا عقل کیا اس میں مشورہ دے گی دل پہ چھوڑو معاملہ دل کا خیریت سے گزر گیا مضطر! سخت نازک تھا مرحلہ دل کا (مئی، ۱۹۹۵ء)