اشکوں کے چراغ — Page 462
462 حسب سابق بیچ کھانے کے لیے شاہ و وزیر بانٹ لیں گے ملک کو پھر آدھا آدھا اس برس کیفر کردار کو پہنچیں گے سب مذہب فروش کر دیے جائیں گے مجرم بے لبادہ اس برس ق منزلیں کیوں جاگ اُٹھی ہیں سرِ شام فراق کس حسیں کا منتظر ہے جادہ جادہ اس برس حیدر کرار کے دیدار کی حسرت لیے ایک خلقت راہ میں ہے ایستادہ اس برس یار اگر واپس نہ آیا جلد شہر ہجر میں جائیں گے ملنے کو ہم بھی پا پیادہ اس برس جب بھی وہ گزریں سر شہر فراق آرزو پھینک دیجے راہ میں میرا برادہ اس برس جب دریچے فرش کے مضطر ! مقفل ہو گئے عرش کے در ہو گئے ہم پر کشادہ اس برس (۱۹۸۵ء)