اشکوں کے چراغ — Page 381
381 ناداں اُلجھ رہے تھے عبث آفتاب سے ہم نے دکھا دیا تھا حوالہ کتاب سے یہ اور بات ہے کہ ابھی مطمئن نہ تھا خاموش تو وہ ہو گیا تھا اس جواب سے آنکھیں کھلی ہوئی تھیں مگر دیکھتی نہ تھیں کوئی بڑا عذاب نہ تھا اس عذاب سے لہروں میں چھپ گئے تھے کنارے کٹے ہوئے بچ کر نکل گیا تھا سفینہ سراب سے اللہ بھیج سایہ ابر رواں کوئی سنولا گئے ہیں دھوپ میں چہرے گلاب سے کچھ بند پانیوں سے تعلق نہیں رہا سیراب ہو کے آئے ہیں رودِ چناب سے کچھ تو جواب دیجیے، شبنم ہی رولیے پھولوں نے احتجاج کیا ہے جناب سے