اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 358 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 358

358 یہ سفر بھی دور کا ہے، یہ ہے دن بھی ڈھلنے والا مرے ساتھ کیا چلے گا مرے ساتھ چلنے والا کبھی یہ تو سوچ لیتے کہ بزعم اکثریت جسے کاٹنے چلے ہو وہ شجر ہے پھلنے والا ہے بھنور بھنور حکایت، ہے یہ موج موج چرچا کہ یہ بیڑا روز اول سے تھا بچ نکلنے والا دل و جان کے مریضو! یہ خبر سنی تو ہوگی وہ طبیب آ گیا ہے جو ہے دل بدلنے والا لو ہوا ہے پھر سویرا ، وہ گھڑی بھی آن پہنچی وہ جو دن تھا فیصلے کا نہیں آج ٹلنے والا مجھے خوف ہے تو یہ ہے کہیں تم نہ ڈوب جاؤ کہ زمیں کا ذرہ ذرہ ہے لہو اُگلنے والا نہ سفر ہے مخلصانہ، نہ ہی راہبر ہے دانا نہ ہی تم سنبھل سکو گے ، نہ ہے وہ سنبھلنے والا نہیں ایک تو ہی مضنظر! یہ مکیں بھی جانتے ہیں تری آہ آتشیں سے یہ مکاں ہے جلنے والا (اگست ، ۱۹۸۸ء)