اشکوں کے چراغ — Page 345
345 تری نظر کا اگر اعتبار کر لیتے نظر کی بھیک بھی تجھ سے پکار کر لیتے وہ راہ چلتوں سے قول و قرار کر لیتے وفا کا عہد تو ان سے سنوار کر لیتے اگر نصیب میں لکھی تھی منزلِ مقصود تو اپنے ساتھ ہمیں بھی سوار کر لیتے یہ قافلے جو کھڑے ہیں انا کی سرحد پر کسی بہانے سے سرحد کو پار کر لیتے نہ کرنا پڑتا کبھی ذکر اور کا ہرگز تمھارا ذکر اگر ایک بار کر لیتے گل مراد کو نظروں سے چومنے والے نظر کے زخم تو پہلے شمار کر لیتے نہ جی کا روگ لگاتے امیر بستی میں منافع بخش کوئی کاروبار کر لیتے