اشکوں کے چراغ — Page 324
324 بھول کر بھی نہ اس کو بھول سکے ٹوٹ کر بھی نہ رابطہ ٹوٹا بات ہوتی رہی اِشاروں میں گفتگو کا نہ سلسلہ ٹوٹا کتنے طوفاں گزر گئے سر سے زندگی کا نہ بلبلا ٹوٹا ہم ہی کچھ سخت جان تھے مضطر! دل ناداں تو بارہا ٹوٹا
by Other Authors
324 بھول کر بھی نہ اس کو بھول سکے ٹوٹ کر بھی نہ رابطہ ٹوٹا بات ہوتی رہی اِشاروں میں گفتگو کا نہ سلسلہ ٹوٹا کتنے طوفاں گزر گئے سر سے زندگی کا نہ بلبلا ٹوٹا ہم ہی کچھ سخت جان تھے مضطر! دل ناداں تو بارہا ٹوٹا