اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 283 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 283

283 دل و جاں پہ اس کی حکومت تو ہے حکومت یہ اب تا قیامت تو ہے اسے دیکھنے سر کے بل جاؤں گا اسے دیکھ لینے کی حسرت تو ہے تمھیں بھی خوشی ہو گی مل کر اسے وہ ” کا فر“ سہی خوبصورت تو ہے میں اس کے غلاموں کا ادنی غلام میں جیسا بھی ہوں اس سے نسبت تو ہے اگر کچھ نہیں پاس نقد عمل مرے دل میں اس کی محبت تو ہے میں ممنون ہوں اپنی تکفیر پر کہ یک گونہ یہ ایک عزت تو ہے میں کیسے کروں ہجر کا تذکرہ کہ یہ میری اپنی ہی غفلت تو ہے دعا کیجیے گا شفا کے لیے مریض آپ کا روبصحت تو ہے ابھی آئے گا مسکراتا ہوا اسے مسکرانے کی عادت تو ہے عجب کیا کہ آجائے وہ خواب میں اسے شوق سیر و سیاحت تو ہے عجب کیا کہ اپنا بنا لے مجھے اگرچہ یہ کہنا جسارت تو ہے محمد کی ، احمد کی ، محمود کی سپرد آج اس کے نیابت تو ہے وہی تو ہے زندوں میں جو نیک ہے کہ نیکی اب اس سے عبارت تو ہے وہی ایک ہے آج کوہ وقار وہی صاحب عزم و ہمت تو ہے حسین و جمیل و حلیم و کریم سراسر وہ شفقت ہی شفقت تو ہے وہ صادق بھی ہے اور صدیق بھی وہ معیار حق و صداقت تو ہے وہی آج ہے معرفت کا امیں وہی حامل علم و حکمت تو ہے وجود اس کا اللہ کی دین ہے اسی کی وہ ہم پر عنایت تو ہے