اشکوں کے چراغ — Page 281
281 لکھوں لکھوں میں جب بھی اس کی محبتوں کی ، صداقتوں کی کتاب لکھ تو سب سے پہلے اسے محمدؐ کہوں، رسالت مآب کہ لکھوں لکتھوں کروں تلاوت صحیفہ رُخ کی اور اسے الكتاب جو خواب میں اس کو دیکھ پاؤں تو خواب کو کیسے خواب لکھوں مرے خدا! اپنی طبع مشکل پسند کا کیا جواب آ وہ کام جس کے نہیں ہوں قابل اسی کو کارِ ثواب لکھوں صبا نہاؤں ، گلاب پہنوں تو سوچنے کی کروں جسارت وضو کروں پہلے آنسوؤں سے تو اسم عالی جناب لکھوں ٹھہر بھی جا اشک شامِ ہجراں! ذرا اجازت دے سوچنے کی جو خط ابھی تک لکھا نہیں ہے کوئی تو اس کا جواب لکھوں اسی کو چاہوں، اسی کو سوچوں، اسی کی کرتا رہوں تلاوت جو اذن لکھنے کا پاسکوں تو اسی کو میں بے حساب لکھوں سر مژہ جو لرز رہے ہیں درود اور نعت کے ستارے انھیں شفاعت کے پھول لکھوں کہ مغفرت کے گلاب لاکھوں