اشکوں کے چراغ — Page 279
279 اپنے سائے سے ڈر رہے ہیں لوگ جی رہے ہیں نہ مر رہے ہیں لوگ آج خود سے ملے ہیں پہلی بار جانے اب تک کدھر رہے ہیں لوگ اپنی تصویر دیکھنے کے لیے پانیوں میں اتر رہے ہیں لوگ جو سورج چڑھا ہے آدھی رات اس کا انکار کر رہے ہیں لوگ ق ان کو چاہو، انھیں سلام کرو چاند کے ہمسفر رہے ہیں لوگ جانتے ہیں پتے حسینوں کے عمر بھر نامہ بر رہے ہیں لوگ ہو رہے ہیں یہ زندہ جاوید مر رہے ہیں نہ ڈر رہے ہیں لوگ