اشکوں کے چراغ — Page 247
247 بے سبب بھی، کسی بہانے بھی کبھی مانے، کبھی نہ مانے بھی حادثہ تھا کہ شامت اعمال انھیں جان کر نہ جانے بھی اپنے وعدوں کو کر دیا پورا صادق الوعد کبریا نے بھی قدرت ثانیه کو دیکھ لیا جاں شاران باوفا نے بھی ساتھ بھیجی سکون کی بارش آسماں سے مرے خدا نے بھی ساتھ توفیق صبر کی بھی دی بخش کر درد کے خزانے بھی پھر سے عہد قدیم دُہرایا قافلے نے بھی، رہنما نے بھی بخشوا لے گئے خطاؤں کو یہ خطا کار تھے سیانے بھی واقعہ بھی تھا اور حقیقت بھی تم نے کچھ گھڑ لیے فسانے بھی