اشکوں کے چراغ — Page 188
188 کون یہ آخر شب کر گیا مجھ کو بے تاب کون یہ گھر کو مرے آگ لگا کر نکلا اپنوں بے گانوں میں رہنے لگے چرچے ہر دم اتنا احسان تو احباب کا ہم پر نکلا ہر طرف پھیل گئی ہجر کی زردی مضطر ! چاند چہرے پہ لیے درد کی چادر نکلا
by Other Authors
188 کون یہ آخر شب کر گیا مجھ کو بے تاب کون یہ گھر کو مرے آگ لگا کر نکلا اپنوں بے گانوں میں رہنے لگے چرچے ہر دم اتنا احسان تو احباب کا ہم پر نکلا ہر طرف پھیل گئی ہجر کی زردی مضطر ! چاند چہرے پہ لیے درد کی چادر نکلا