اشکوں کے چراغ — Page 174
174 مرا بیاں ہے بہت مختصر بھی، سادہ بھی جو سننا چاہو تو اس کا کروں اعادہ بھی میں اپنے آپ سے بھی کھل کے مل نہیں سکتا اگر چہ اس کا کیا بارہا ارادہ بھی عجب نہیں کہ اچانک پرانا ہو جائے عروس عہد کا تازہ ترین لبادہ بھی میں ایک ہوں، کبھی تقسیم ہو نہیں سکتا اگر چہ بانٹ لو تم مل کے آدھا آدھا بھی وہ دل کی بات تھی کھل کر زباں پہ آ نہ سکی اگرچہ اس نے کیا بار بار وعدہ بھی اسے اکیلے اُٹھاؤ گے کس طرح مضطر ! بدن کا بوجھ ہے اور بوجھ ہے زیادہ بھی