اشکوں کے چراغ — Page 161
161 یادوں کی گزر گئیں سپاہیں تکتی رہیں دور دور سے نگاہیں فرقت کے برس رہے ہیں پتھر خطرے میں ہیں انتظار گاہیں پت جھڑ سے حساب مانگتی ہیں پیڑوں کی خزاں رسیدہ بانہیں پھولوں کا سکڑ گیا ہے سینہ خوشبوؤں کی چھن گئیں پنا ہیں تاریخ سے محو گفتگو گفتگو ہوں امکان پہ نصب ہیں نگاہیں صحرائے نجف ہے اور میں ہوں اللہ ! کہاں ہیں میری بانہیں شہروں نے نگل لیا زمیں کو راہوں سے بچھڑ گئی ہیں راہیں حیرت سے قلم کو تک رہی ہیں کاغذ کی پھٹی ہوئی نگاہیں ہونا تھا جو ہو چکا ہے مضطر! اب چین سے عمر بھر کراہیں (۱۹۸۸ء)