اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 69 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 69

69 69 پروفیسر سید عباس بن عبد القادر مرحوم کی شہادت پر احساس کو بھی جانچ، نظر کو ٹٹول بھی ماحول جل رہا ہے تو کچھ منہ سے بول بھی یوں تو ازل سے روح تھی اس کی سحر سپید وہ سروقد تھا جسم کا سچا سڈول بھی میں روح عصر ہوں، نہ مجھے موت سے ڈرا میری ادا کو جان، مجھے ماپ تول بھی تو کیوں تکلفات کی سُولی پر چڑھ گیا کافی تھے مجھ کو پیار کے دو چار بول بھی میں اہم ہوں تو اسم کا کچھ احترام کر سولی پہ بھی سجا مجھے مٹی میں رول بھی دار و رسن سے ماپ مرے قد کو لاکھ بار اک بار خود کو میرے ترازو میں تول بھی