اشکوں کے چراغ — Page 68
۔۔۔مراد الله تعالى 68 وہ بے نیاز چاہے تو ساری انڈیل دے یوں جوڑنے کو جوڑے ہے بندہ پلی پلی سر پر خیالِ یار کی چادر کو تان کر چرچا کیا ہے یار کا گھر گھر، گلی گلی مقتل میں تیغ تیغ ہمیں نے اذان دی ہم ہی نے دار دار پکارا علی علی کرتے رہے جھرو کہ درشن“ سے گفتگو پر جا کے پاس چل کے نہ آئے مہابلی کیا چاند رات کا اسے مطلق پتا نہ تھا اس نے جو اپنی مانگ میں یہ چاندنی ملی أتری جب آسمان سے شبنم گلاب پر خوشبو نے مسکرا کے کہا میں بکھر چلی خوددار، غم شناس، خطاکار، بے ہنر سب جانتے ہیں آپ کو مضطر ! گلی گلی