اشکوں کے چراغ — Page 61
61 عشق اس کے عہد میں بے دست و پا ہو جائے گا آنکھ استنبول، سینہ قرطبہ ہو جائے گا میری قسمت کی لکیریں دیکھ کر کہنے لگا یہ لکیریں مل گئیں تو حادثہ ہو جائے گا ایک ہی بستر میں ہیں سوئے ہوئے بستی کے لوگ صبح جاگیں گے تو باہم فاصلہ ہو جائے گا وہ گئے دن کا مسافر ہے، اسے ملتے رہو ذکر منزل برسبیل تذکرہ ہو جائے گا رات لمبی ہے تو باہم گفتگو کرتے رہو بات چل نکلی تو بہتوں کا بھلا ہو جائے گا کس لیے شرما رہے ہو آزما کر دیکھ لو وہ بڑا زود آشنا ہے، آشنا ہو جائے گا ہر طرف آنکھیں ہیں اس کی راہ میں لیٹی ہوئی آئے گا تو آئنہ در آئنہ ہو جائے گا سر بریدہ لفظ ہم سے رات یہ کہنے لگے اب نہ بولو گے تو کاغذ کربلا ہو جائے گا