اشکوں کے چراغ — Page 59
59 59 بات رانجھے کی نہ قصہ ہیر کا ذکر ہے اک خواب کی تعبیر کا پیرہن جلنے لگا تصویر کا ہر طرف ہے شور دار و گیر کا کس نے دستک دی در انصاف پر سلسلہ ملنے لگا زنجیر کا آننه در آنته در آننه جمگھٹا ہے ایک ہی تصویر کا پھر قسم زیتون کی کھائی گئی ذکر پھر ہونے لگا انجیر کا آئنے کی طرح چکنا چور ہے کوئی رُخ ثابت نہیں تصویر کا گھر کی باہر سے سفیدی ہو گئی فائده اتنا ہوا تعزیر کا مجھ کو سولی دی گئی آواز کی میں شہید وقت ہوں تقریر کا مجھ کو بھی کچھ تجربہ ہے عشق کا میں بھی زخمی ہوں نظر کے تیر کا مجھ سے بھی کر لیجیے گا مشورہ آمنه بردار ہوں تقدیر کا