اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 49 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 49

49 49 رہا تھا میں ہی تو نہیں پگھل اس کا بھی لباس جل رہا تھا وہ جا بھی چکا تھا مجھ سے مل کر میں تھا کہ ابھی سنبھل رہا تھا گلشن کا نہ تھا قصور اس میں موسم ہی نہیں نہیں بدل رہا تھا اس شور زمیں میں پیر غم کا جیسا بھی تھا پھول پھل رہا تھا فرقت کا نہیں تھا داغ دل میں صحرا میں چراغ جل رہا تھا دریا کو تھا پی چکا سمندر ساحل کو بھی اب نگل رہا تھا جنت کا شجر تھا اور اس کے سائے میں گناہ پل رہا تھا